|
معشوق نہيں کوئي حسيں تم سے زيادھ
مشتاق ھيں کس ماہ کے انجم سے زيادھ
صوفي جو سنے نالہ موزوں کو ہمارے
حالت ھو مغني کے ترنم سے زيادھ
آئينے ميں دکہا ھے کو منہ چاند سا اپنا
خود گم ھے وھ بت، عاشق خود گم سے زيادھ
بجلي کو جلا ديں گےوھ لب دانت دکہا کر
شغل آج کل ان کو ھے تبسم سے زيادھ
کہتا ھے وھ شوخ آئينے ميں عکس سے آتش
تم ھم سے زيادھ ھو تو ھم تم سے زيادھ
|