ميں نے اس کو پانے کي خاطر تھا بے سکوں کتنا
يہ کيا ہوا اسے کھو کر ميں سکوں بھي نہيںپس غبار تو چہروں کو ہم نے ديکھ ليا
يہ اور بات ہوائوں کے رخ نہ پہچانے
ميں کيا کہوں لب گويا نے ساتھ چھوڑ ديا
وہ کہہ رہے ہيں کہ يہ شرح آرزو تو کرے
کم نہ ہوگي تيري پرستاري
ہم نہ ہوں گے تو دوسرا ہوگا
ابھي تو عذر ملاقات ہي تک آئے ہيں
ابھي تو ديکھئے ہوں گي قباحتيں کيا کيا
مسکرا کر آپ نے طے کرديا اک مرحلہ
اب مجھے کچھ آپ سے کہنے کي جرات ہوگئي
دم تو لينے دو اب اتني بھي عنايت نہ کرو
آدمي بار عنايت سے بھي مرجاتا ہے
صبا نے آخر شب آکے يہ تسلي دي
کہ ابتدائے سحر انتہائے شپ سے ہے |