سراغ کاش ملے اپني عظمتوں کا تجھے
ترا مقام نہيں ہے مقام محببوريکر اپني ذات ميں گم اپني عظمتوں کا تجھے
مٹا گئي ہے تجھے اپنے آپ سے دوري
ہس فريب مسلسل ہے آدمي کيلئے
يہ جاہ وحشمت دنيا ہے دو گھڑي کيلئے
چلو يہ مان ليا يہ تو ہوتي آئي ہے
کہ کام کوئي کرےاور صلہ کسي کو ملے
تمہيں بتائوں مگر يہ کہاں کا ہے انصاف
کہ جرم کوئي کرے اور سزا کسي کو ملے
کسے ہے علم کي عظمت سے انکار
نہ کر ليکن اسے تنا بھي محدود
خدا سے مانگ توفيق عمل بھي
عم منقود ہوتو علم بے سود |