|
اردو ہے جس کا نام ہميں جانتے
ہيں داغ ہندوستان ميں دھوم ہماري زباں کي ہے، داغ کے ہاں جو چيز
قاري کو سب سے پہلے اپني طرف متوجہ کرتي ہے وہ ہے قلعہ معلي کي
سولہ آنے خالص زبان کا چٹخارہ، داغ کا زيادہ فلسفانيہ خيالات اور
فکر کي گہرائي کي بجائے اظہار بيان پرتھا، چنانچہ ان کے اصل جوہر
شوخي، چلبلے پن اور فسرے بازي ميں کھلتے ہيں، اسي محدود ميدان ميں
وہ ايسي جادو گري دکھاگئے ہيں بعض اوقات تو غالب جيسا شاعر بھي ان
کے شعروں پر للچا اٹھتا تھا۔ |