|
کعبے کي سمت جا کے مرا دھيان پھر گيا
اس بت کو ديکھتے ہي بس ايمان پھر گي
محشر میں داد خواہ جو اے دل نہ تو ہوا
تو جان لے يہ باتھ سے ميدا پھر گي
چھپ کر کہاں گئے تھے وہ شب کو کہ ميرے گھر
سو بار آ کے ان کا نگہبان پھر گي
رونق جو آ گئي پسينے سے موت کے
پاني ترے مريض پر اک آن پھر گي
گريے نے ايک دم ميں بنا دي وہ گھر کي شکل
ميري نظر ميں صاف بيابان پھر گيا
لائے تھے کوئے يار سے ہم داغ کو ابھي
لو اس کي موت ائي وہ نادان پھر گي
|