|
کيا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ
ديکھوں
پھر بھي يہ کہوں جلوہ جاناں نہيں ديکھا
محشر ميں وہ نادم ہوں خدا يہ نہ
دکھائے
آنکھوں نے کبھي اس کو پشيماں نہيں ديکھا
ہر چند ترے ظلم کي کچھ حد نہيں
ظالم
پر ہم نے کسي شخص کو نالاں نہيں رکھا
ملتا نہيں ہم کو دل گم گشتہ ہمارا
تو نے تو کہیں اے غم جاناں نہيں ديکھا
لو اور سنو کہتے ہيں وہ ديکھ کے مجھ
کو
جو حال سنا تھا وھ پريشان نہيں ديکھا
کيا پوچھتے ہو کون ہے يہ کسي کي ہے
شہرت
کيا تم نے کبھي داغ کا ديوان نہيں ديکھا
|