|
وہ قتل کرکے مجھے ہر کسي سے
پوچھتے ہيں
يہ کام کس نے کيا ہے يہ کام کس کا تھا
قفا کريں گے نباہيں گے بات مانيں گے
سمہيں بھي ياد ہے کچھ يہ کلام کس کا تھا
اگر چہ ديکھنے والے ترے ہزاروں
تھے
تباہ حال بہت زير بام کس کا تھا
ہر اک سے کہتے ہيں داگ بے وفا نکا
يہ پوچھے ان سے کوئي يہ غلام کس کا تھا تم کو يہي شاياں ہے کہ تم ديتے ہوئے وشنام
مجھ کو يہي زيبا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
مشتاق بہت ہيں مرے کہنے کے پر اے داغ
يہ وقت ہي ايسا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
|