|
يہ قول کسي کا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہتا
وہ کچھ نہيں کہتا ہے کہ ميں کچھ نہیں کہت
سن سن کر ترے عشق ميں اغيار کے طعنے
مير اہي کليجا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
ان کا يہي سننا ہے کہ وہ کچھ نہيں سنتے
ميرا يہي کہنا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
خط ميں مجھے اول تو سنائي ہيں ہزاروں
آخر ميں يہ لکھا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
پھٹتا ہے جگر ديکھ کے قاصد کي مصيبت
پوچھوں تو يہ کہتا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
يہ خوب سمجھ ليجئے غمار وہي ہے
جو آپ سے سے کہتا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
تم کو يہي شاياں ہے کہ تم ديتے ہوئے وشنام
مجھ کو يہي زيبا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
مشتاق بہت ہيں مرے کہنے کے پر اے داغ
يہ وقت ہي ايسا ہے کہ ميں کچھ نہيں کہت
|