اگر چہ ميں بھي نہيں بے نظير شہزادہ
خدا کے فضل سے بدر منير تو بھي نہيںچلنے لگےتو پھيل گئي کائنات ميں
تھک کر گرے تو پائو دبانے لگي زميں
حالات ميں وجود مرا ڈولتي پتنگ
کاغذ کا زور باد مخالف پہ کيا چلے
شور ميں دونوں کي پہچان ہي زائل کردي
ميري آواز ميں آواز ملا کر تم نے
اگر بکنا مقدر ہوچکا ہے
بہر عنوان ميں ارزني سے بچنا
سانس تو لے ہوا بہت پرتو ہلا فضا بہت
گھوم ذرا چہار سمت ديکھ تو يار چار سو
دشت ميں پہنچے تو ويراني نہ راس آئي ہميں
گھر ميں ملا تو اس کي ديواريں نہيں در آشنا
آپ سر تا پا تلون ہم سرار آئينہ
جب بھي ملتے ہيں نظر آتا ہے چہرا مختلف
ہے لوح طلسمات سخن اسم مظفر
جمتا ہي نہيں رنگ کسي کا مرے نرديک |