کبھي کسي کيلئے وقف تھا وجود مرا
وہ اب تو خير سے سود و زياں سمجھتا ہےہزاروں تجربوں کے باجود طے نہ ہو سکا
وہي بہت حسين تھا کہ ہم ہي خوش گمان تھے
دو جہاں پر چھا رہي ہے کس لئے
ميں يہاں ہوں شام غم بہکے نہيں
اگر سوچو رو وزني ہوگئي ہے
ہماري بات نامنظور ہوکر
کسي کو حشر تک رہنا نہيں ہے
زيادہ کچھ ہميں کہنا نہيں ہے
ترس کھائے چشم عبرت کے ساتھ
يہي شخص با اختياروں ميں تھا
مجھ کو يہ پستياں قبول ميرلئے نہ ہو ملول
جاکہ ترا عروج ہے ميرے زوال کے سبب
|