|
رنگ پيراہن کا، کوشبو زلف لہرانے
کا نام
موسم گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
دوستوں اس چشم و لب کي کچھ
جس کے بغير
گلستاں کي بات رنگيں ہے، نہ ميخانے کا نام
پھر نظر ميں پھول مہکے، دل ميں
پھر شمعيں جليں
پھر تصور نے ليا اس بزم ميں جانے کا نام
دلبري ٹہرا زبان خلق کھلوانے کا
نام
اب نہیں پري رو زلف بکھرانے کا نام
محتسب کي خير، اونچا ہے اس کے فيض
سے
رند کا، ساقي، مے کا، خم کا، پيمانے کانام
ہم سے کہتے ہيں چمن والے، غريبان
چمن
تم کوئي اچھا سا رکھ لو اپنے ويران کا نام
فيض ان کو ہے تقا جائے وفا ہم، سے
جنہيں
آشنا کے نام سے پيارا ہے بيگانے کا نام
|