|
مصلحت کيا ہے جو خاموش ہو بولو تو سہئ
يہ خموشي مجھے گمراہ کئيے ديتي ہے
جب سے ترے جلووں کو بسايا ہے نظر ميں
کچھ لوگ پريشاں ہيں مري ديدہ وري سے
اتفاقا ان کا چہرہ ہوگياتھا بے نقاب
احتياطا بن گئي ميري نظر نا آشنا
اف يہ ماحول کي بے بسي الاماں کوئي احساس بھي دل کو ہوتا نہيں
اشک پھولوں پہ شبنم بہاتي رہي لب کلي کے مگر مسکراتے رہے
ساز دل کے تھے سب تار ٹوٹے ہوئے سننے والے بھي تھے بے تعلق مگر
اک نئي لے ميں ہم نغمہ زنسفي انجمن ميں کسي کے سناتے رہے
ہم سے سيکھے کوئي احترام وفا ہم نے دنيا کو ہر گام ٹھکراديا
ميکدہ ساز تھي اپني فطرت مگر جان و مينا سے دامن بچاتے رہے |