|
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہيں ہوں ميں
خاک ايسي زندگي پہ کہ پتھر نہيں ہوں ميں
کيوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں پيالہ و ساغر نہيں ہوں ميں
يا رب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس ليئے
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہيں ہوں ميں
حد چاھئيے سزا ميں عقوبت کے واسطے
آخر گناہگار ہوں کافر نہيں ہو میں
رکھتے ہو تم قدم مري آنکھوں سے کيوں
دريغ
رہتے ميں مہر و ماہ سے کمتر نہيں ہوں ميں
غالب وظيفہ خوار ہو، وہ شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہيں ہوں ميں
|