|
غنچہ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ يوں
بواسے کو پوچھتا ہوں ميں منہ سے مجھے بتا کہ يوں
پرسش طرز البري کيجئے کيا کہ بن کہے
اس کے ہر ايک اشارے سے نکلے ہے يہ ادا کہ يوں
رات کے وقت مے پئيے ساتھ رقيب کو لئے
آوے وہ ياں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ يوں
ميں نہ کہا کہ بزم ناز چاہئے غير سے تہي
سن کے ستم ظريف نے مجھ کو اٹھايا کہ يوں
مجھ سے کہا جو يار نے جاتے ہيں ہوش کس طرح
ديکھ کے ميري بے خودي چلنے لگي ہوا کہ يوں
کب مجھے کوئے يار ميں رہنے کي وضع ياد
تھي
آئينہ دار بن گئي حيرت نقش پا کہ يوں
جو يہ کہے کہ ريختہ کيونکہ ہو رشک
فارسي
گفتہ غالب ايک بار پڑھ کے اسے سنا کہ يوں
|