|
جہاں تيرا نقش قدم ديکھتے ہيں
خياباں خياباں ارم ديکھتے ہيں
دل آشفتگان خال گنج دھن کے
سويدا ميں سير عدم ديکھتے ہيں
ترے سرو قامت سے ايک قد آدم
قيامت کے فتنے کو کم ديکھتے ہيں
تماشا کہ اے محو آئينہ داري
تجھے کس تمنا سے ہم ديکھتے ہيں
سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
کہ شبرو کا بقش قدم ديکھتے ہيں
بنا کر فقيروں کا ہم بھيس غالب
تماشاے اے اہل کرم ديکھتے ہين
|