|
کبھي نيکي بھي اس کي جي ميں گر آجائے ہے مجھ سے
جفائيں کرکے اپني ياد شرما جائے ہے مجھ سے
خدايا جذبہ دل کي مگر تاثير الٹی ہے
کہ جتنا کھينچا ہوں اور کھينچا جائے ہے مجھ سے
وہ بدخو اور ميري داستان شق طولاني
عبارت مختصر قاصد بھي گھبرائے جائے ہے مجھ سے
ادھر وہ بد گماني ہے ادھر يہ ناتواني ہے
نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولاجائے ہے مجھ سے
سنبھلنے دے مجھے اے نا اميدي
کيا قيامت ہے
کہ دامان خيال يار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
ہوئے ہيں پائوں ہي پہلے نبرد عشق ميں
زخمي
نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھرا جائے ہے مجھ سے
قيامت ہے کہ ہو وے مدعي کا ہمسفر غالب
وہ کافر کو خدا کو بھي سونپا جائے ہے مجھ سے
|