|
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا
تو خدا ہوتا
ڈبويا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا ميں تو کيا ہوتا
ہوا جب غم سے يوں بے حس تو غم کيا سر
کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے توزانو پر دھرا ہوتا
ہوئي مدت کہ غالب مرگيا، پر ياد آتا
ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ يوں ہوتا تو کيا ہوتا
|