|
پابہ گل
صديوں کا فاصلہ ہے جنگل سے ميرے گھر تک
شاخ ثمر بکف سے تخليق کے ہنر تک
اس پاپيادگي سے اس برق پا سفر تک
يہ فاصلہ ہے ميرے ذہن رسا کا ضامن
منزل سے تابہ منزل ہر نقش پاکا ضامن
ہر خواب، ہر حقيقت، ہر ارتقا کا ضامن
اب ميري دسترس ميں سورج بھي ہے ہوا بھي
يہ پر کشش زميں بھي وہ بے کشش خلا ہے
اب تو ہے ميري زد ميں، دنيائے ماورا بھي
پھر بھي نہ جانے کيوں ميں جنگل کو اتنا چاہتا ہوں
فردوس گم شدہ کے موہوم خواب ديکھوں
آنگن ميں کچھ نہيں تو ايک پيڑ ہي لگائوں
|