بندوق والے آئے بہ صد شاب اختيار
چہروں پہ نفرتوں کي لکيروں کے شاہکارہم مجرموںکي آج وہ تصوير لے گئے
انجانے وسوسوں کي وہ زنجير دے گئے
ناکر وہ ہر گناہ جو منسوب ہوتو ہو
کيا فکر جان زار بھي مصلوب ہوتو ہو
مٹي ميں ميرا چہرہ بھي روپوش ہوو ہ
سب چپ ہيں يہ زبان بھي خاموش ہو تو ہو
اوروں کے واسطے تو صبا پھول لائے گي
مرنےسے ميرے کوئي قيامت نہ آئے گي
ہم اہم دل ہيں، جرم محبت قبول ہے
مقتل سجائيے يہ تکلف فضول ہے |