کل کي نگاہ کيلئے پہچان چھوڑ جائو
ہے حرف ہي تو آئينہ ذات لکھ تو لوسارے درخت اب کے تو اکھڑے گئے
ہم جيسے سر بلند سلامت ہيں کس طرح
مجھ کو زنداں ميں لائے يہ احساس کيا
ميرے احساس کي پستياں چھين ليں
نہ جانے کون منزل پر پہنچ جائے
کسي کا راستہ روک نہ جائے
وہيں تک روشني کي بات کيجئے
جہاں تک آپ کا سايہ نہ جائے
قلم ہے ہاتھ ميں او فکر ہے يہ
ورق سارہ رہے لکھا نہ جائے
يارو سروق ]ہ مرا نام مت لکھو
تحرير بولتي ہے کہ تحرير کس کي ہے
ميں بھي تو سرکشدہ خيالوں کا عکس ہوں
آويزاں اب صليب پہ تصوير کس کي ہے
شیش مخلوں کے مکيں سے سابقہ تيرا نہيں
جو بھي پتھر پھينکا اب کے سنبھل کے پھينکنا
مرگابيوں نے سرد ہوائوں سے کہہ ديا
اپنا وطن کہاں ہے جو ترک وطن کريں |