|
توڑ کر عھد کرم نا آشنا ھو جائيے
بندھ پرور جائيے اچھا خفا ھو جائيے
ميرے عذر جرم پر مطلق نہ کيجئے التفات
بلکہ پہلے سے بھي بڑہ کر کج ادا ھوجائے
خاطر محرام کو کر ديجئے محو الم
درپے ايذائے جان مبتلا ھوجائيے
راہ ميں مليے کبھي مجہ سے تو از راھ ستم
ھونٹ کاٹ کر فورا جدا ھو جائيے
گر نگاہ شوق کو مہو تماشا ديکہئے
قہر کي نظروں سے مصروف سزا ھو جائيے
ميري تحرير ندامت کا نہ ديجئےکچھ جواب
ديکہ ليجئے اور تفاغل آشنا ھو جائيے
مجہ سے تنہائي ميں گر مليے توديجئے گالياں
اور بزم غير ميں جان حيا ھو جائيے
ہاں يہي ميرے وفائے بےاثر کي ھے سزا
آپ کچہ اس سے بھي بڑہ کر پر جفا ھو جائيے
جي ميں آتا ھے کہ اس شوخ تگافل کيش سے
اب نہ مليے پھر کبھي اور بے وفا ھو جائيے
کاوش درد جگر کي لذتوں کو بہول کر
مائل آرام و مشاق شفا ھو جائيے
ايک بھيارماں نہ رھ جائے دل مايوس ميں
يعنے آخر بے نياز مدعا ھو جائيے
بہول کر بھي اس ستم پرور کي پھر آئے نہ ياد
اس قدر بيگانہ عہد وفا ھو جائيے
چاھتا ھے مجہ کو تو بہولے بہ بہولوں ميں تجہے
تيرے اس طرز تفاغل کے فدا ھو جائيے
کشمکش ھائے الم سے اب يہ حسرت جي ميں ھے
چہٹ کے ان کے جہگڑوں سے مہمان قضا ھو جائيے
|