کچھ کہنے کا وقت نہيں يہ کچھ نہ خاموش رہو
اے لوگوں خاموش رہو ہاں اے لوگوں خاموش رہوسچ چھا پر اس کے جلوہ ميں زہر کا ہے
اک پيالا بھي
پاگل ہو کيوں نا حق کو سقراط بنو، خاموش رہو
حق اھچا پر اس کے لئے کوئي اور مرے تو اور اچھا
تم بھي کوئي منصور ہو جو سولي پہ چڑھو خاموش رہو
ان کا يہ کہانا سورج ہي دھرتي کے پھيرے کرتا ہے
سر آنکھوں پر سورج ہي کو گھومنے دو خاموش رہو
مجلس ميں کچھ حبس ہے اور زنجير کا آہن چھبتا ہے
پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، ہاں پھر سوچو، خاموش رہو
گرم آسنو اور ٹھنڈي آہن، من ميں کيا کيا موسم ہيں
اس بگيا کے بھيد نہ کھولو سير کرو خاموش رہو
آنکھيں موند کنارے بيٹھو من کے رکھو بند کواڑ
انشاء جي لو دھاگا اور لب سي لو خاموش رہو |