|
کام فرمائيے کس طرح سے دانائي کو
لگ گئي آگ ياں صبر و شيکبائي کو
عشق کہتا ھے يہ وحشت سے جنوں کے حق ميں
چہيڑ مت بختوں جلے ميرے بڑے بہائي کو
کيا خدائي ھے منڈانے لگے اب خط وھ لوگ
ديکہ کر ڈيوڑھي ميں چہپ رھتے تہے جونائي کو
وعدھ کرتا ھے غزالان حرم کے آگے
کس نے يہ بات سکہائي ترے سودائي کو
گرچہ ھيں آبلہ پا دشت جنوں کے اے خضر
تو بھي تيار ھيں ھم مرحلہ پيمائي کو
اک بگولا جو پھرا ناقہ، ليلي کے گرد
ياد کررونے لگي اپنے وھ صحرائي کو
مست جاروب کشي کرتے ھيں ياں پلکوں سے
کعبہ پہنچنے ھے مے خانے کي ستہرائي کو
جي ميں کيا آگيا انشا کے يہ بيٹہے بيٹہے
کہ پسند اس نے کيا عالم تنھائي کو
|