اس رستے ميں پيچھے سے اتني آوازيں آئيں جمال
اک جگہ تو گھوم کے رہ گئي ايڑھي سيدھے پائو کينقش پا ڈھونڈتے رہو تمنا ميں کہاں
يہاں موجودگي خاک غنيمت جانو
وہ جس سفر پہ گيا ہے اگر پلٹ آيا
گمان ہے کہ لے آۓے گا چشم و لب ميرے
کمال اس نے کيا اور ميں نے حد کردي
کہ خود بدل گيا اس کي نظر بدلنے تک
ياد رکھنا ہي محبت ميں نہيں ہے سب کچھ
بھول جانا بھي بڑي بات ہوا کرتي ہے
برا تھا يا وہ بھلا لمحہ محبت تھا
وہيں پہ سلسلہ ماہ وسال رہ جاتا
|