|
زميں پيروں سے کتني بار اک دن ميں نکلتي ہے
ميں ايسے حادثوں پر دل مگر چھوٹا نہيں کرتا
ميں سب کو تو دکھ درد سنانے سے رہا
اک شخص ہے سو وہ کبھي تنہا نہ ملا
کوئي بھي شخص اکيلا نہيں تھا ساحل پر
کسي کو ڈوبنے والا اشارہ کيا کرتا
خموشي جرم کا اقرار بننے والي تھي
جواب دينا پڑا وہ سوال ايسا تھا
کسي کا حل کسي کا مسئلہ ہے
محبت اپنا اپنا تجربہ ہے
مرا بھي چاہنے والا تھا کوئي
وہ بچھڑا ہے تو اندازہ ہوا ہے
ذرا اس کرب کا اندازہ کيجئے
ميں اپنے آپ کو پہچانتا ہوں
چڑھتے ہوئے سورج کي پرستش ہي پہ موقوف نہيں
صبح کے وقت تو ہر چيز خدا لگتي ہے
يہ بچھڑنے کا سماں سب کچھ نہيں
اس سے آگے ايک منظر اور ہے
ناکاميوں سے عشق کي حد تک لگائو تھا
ہم نے ترے حصول کو مقصد بناليا
کچھ اور پرکشش و دل نشيں وہ لگتا ہے
جمال مل کے تو ديکھو قريب شام اس سے
|