جگر مراد
آبادي کے ہاں شوخي اور معاملہ بندي کے رنگ کے ساتھ ساتھ حقائق و
معارف کي بزم آرائي بھي ملتي ہے، بظاہر تويہ دونوں چيزيں متضاد
ہيں، ليکن اگر ہم اس بات پر غور کريں کہ جگر نے بيک وقت داگ اور
اصغر گونڈي سے اصلاح لي تھي تو معاملہ صاف ہوجاتا ہے۔
جگر کا کلام ايک رواں دواں ندي کے مانند ہے، چھوٹي بحريں،
سادہ الفاظ اور محاورے کے بر محل استعمال نے ان کي شاعري ميں ايک
خاص نوعيت کي دلکشي پيدا کردي ہے، جگر اپنے دور کے کامياب ترين
مشاعرہ گو شاعر تھے، اس وقت کے بڑے بڑے شعرا کا چراغ ان کے سامنے
ٹمٹاجاتا تھا۔ |