شب پرستو در امکان سحر بند کرو
مجھ سے پہلے مرے خوابوں کو نظر بند کروشعور کي پختگي سے پہلے
خود آگہي نقص آگہي ہے
فضائے آخر شب کي لطافت
سحر کے نام ہے نذرانہ شب
حدود سود و زياع سے نکل سکا نہ کوئي
يہ کائنات ہے شايد اسي حاصار ميں بند
اس نے جب پوچھا کہ محبت کيا شے ہے
ميں نے اک تصوير بنادي بانہوں ميں
نہيں ہے وہ دور بھي رہنے کا حوصلہ اس ميں
وہ ميرا سامنا کرتے ہوئے بھي ڈرتا ہے
برسوں کي انا لرز اٹةي ہے
يہ کس نے ادھر نگاہ کي ہے
ارباب خرد کي زندگاني
سانچوں ميں قياس کے ڈھلي ہے
اس نے ديکھا يوں مجھے جيسے
اس کا ديکھا ہوا سا خواب ہوں ميں
اس سے بہت خواب کيا ہوتا
کھوگيا وہ مرے سوالوں ميں
|