جب تک مري نظر ميں رہيں مشکليں مري
پيدا نہ کرسکا کوئي مشکل مرے لئےسايہ زلف مل گيا ورنہ
دھوپ ہي دھوپ تھي بدن ميں آج
کہہ رہي ہے يہ فضا اس شہر کي
سر بچانا ہے تو خود پتھر اٹھا
ہوںميں ديوانہ بہار مگر
خود نمائي ہے مشغلہ کس کا
اپني نظروں سے گرا جاتا ہوں
دوستوں مري عزت کرنا
کچھ دن سےعجب صورت حالات ہے جوہر
بگڑا ہو اک شخض يہ کہتا ہے سدھر جا
|