ميرا شباب مستي ديکھا ہے مکيشوں نے
موسم بدل ديا ہے ميں نے گھٹا سے پہلےچاہےتباہيوں کے ماتھے سے ہل نہ جائے
جينا ہے مجھ کو جب تک دنيا بدل نہ جائے
وہ مل گئے تو آرزو کے زاوئيے بدل گئے
کئي چراغ بجھ گئے کئي چراغ جل گئے
اشکوں سے ہم فضا کو بدل کر گزر گئے
کہتي رہي بہار کہ ميرا زمانہ ہے
کسي کے طنز تبسم کے تھے ہزار جواب
يہ حوصلہ تھا ہمارا کہ ہنس کے ٹال گئے
اب کسي ياد کا دھبا نہکسي رنہ کي چھينٹ
ذہن حيرت کي پھواروں سے دھلا ہے کيا کيا
عرض ہنر کي داد ہميشہ يونہي ملي
پتھر نئے نہيں ہيں مرا سا نيا نہيں
غنچو ہنسو تم مجھ کو نہ ديکھو
ميري ہنسي جينے کي تھکن ہے
ذرا سنو کہيں کوثر غزل سرا تو نہيں
کہاں سے آتي ہے خود آگہي کي آوازيں
ہم انجمن آرائے غم عشق ہيں کوثر
جو شمع جلادي ہے وہ جلتي ہي رہے گي |