ديکھا تو ميں زميں کھسک رہي تھي
بيٹے تھے بنا کے گھر زميں پرديوانوں کو پہچانيں ہيں
سنگ، سلاخيں اور کٹہرے
سميٹ لو کہ يہي منظروں کا حاصل ہے
اس کي ايک آنکھ ميں تصوري پورے گھر کي تھي
اس کو پاس بٹھا لينا پر ديکھنا مت
ميري گلي ميں گھر وہ بھولنے آيا تھا
وہ جاگتا ہے مجھے ديکھنے کي خواہش ميں
ميں اس کي خواہش بيدار کے حصار ميں ہوں
عجيب طوق تعلق ہے، زخم بھرتا نہيں
اسے بھلانے کو نکلو تو دن گزرتا نہيں
ميري آنکھيں ميري دہليز پر رکھ ديتا ہے
خاص ہے ميرے لئے شوق ستم تک اس کا
ديکھا تو شہر بھر کي ملامت تھي رزق جاں
بہلانے آئي بھي تو وہي دل گرفتہ شب |