|
اب تو گھبرا کے يہ کہتے ھيں کہ مرجائيں گے
مر کے بھي چين نہ پايا تو کدہر جائيں گے
تم نے ٹھرائي اگر غير کے گہر جانے کي
تو ارادے يہاں کچھ اور ٹھر جائيں گے
خالي اے چارھ گر ھوں گے بہت مرھم داں
پر مرے زخم نہيں ايسے کہ بہر جائيں گے
پہنچيں گے رھ گزر يار تلک کيوں کر ھم
پہلے جب تک دو عالم سے گزر جائيں گے
شعلہ آھ کو بجلي کي طرح چمکائوں
پت مجھے ڈر ھے کہ وھ ديکہ کے ڈر جائيں گے
ھم ھيں وھ جو کريں خون کا دعوي تجھ پر
بلکہ پوچہے گا خدا بھي تو مکر جائيں گے
آگ دوزخ کي بھي ھو جائے گي پاني پاني
جب يہ عاصي عرق شرم سے تر جائيں گے
نہيں پائے گا نشاں کوئي ھمار ھر گز
ھم جہاں سے روشن تير نظر جائيں گے
ذوق جو مدرسے کے بگڑے ھوئے ھيں ملا
ان کو مے خانے ميں لے آئو سنور جائيں گے
|