مجھے طلوع سے ديکھو غروب سے سمجھو
بتائو کوئي بھي گردش ہے رائگاں ميرييہ تہ شناسي حرف نگہ کا احساں ہے
جس انجمن ميں گئے ہيں اداس آئے ہيں
اب بلندي پندار کيسي
سر ہي بچ جائے دستار کيسي
عجب تھے لوگ ترسے صورتوں کو
بہت پتھر تھے جو چہرہ نما تھے
ہم اسي خو کي بدولت ہوے زخم آسودہ
اور ہوں گے جنھيں ڈرلگتا ہے سچائي سے
اب تو جي لگنے کي بس ايک ہي صورت ہے کہ ذہن
سنگ بے رخ کو خدوخال شناسائي دے
کريں معلوم کيا احوال دنيا
ہماري ہي طرح دنيا بھي ہوگي
فن کے پيمانے سب حرف کے کوز نازک
کيسے سمجھائوں کہ کچھ دکھ ہيں سمندر ميرے
اک سوچ ميں ہوگيا ہوں محدود
اور سوچ کي انتہا نہيں ہے
ہوا نے لمحے کو صديوں پہ پھيلتے ديکھا
اور آسماں نے تو يہ کھيل بار ہا ديکھا
ہنر کا معجزہ ثابت اسي گرفت سے ہے
وہ چہرہ صاف تراشا جو خواب سا ديکھا
سواد عصر کا وہ چہرہ سوال ہوں ميں
جسے اندھيروں ميں بھي صاف پڑھ ليا جائے
ايک لہجے ميں بياں ہوسکے
ہجر تو درد ہے اپنا اپنا
اپنے ہي مجسمے کو توڑا
ہاتھ اپنا غلط بھي کيا پڑا تھا
اب فاصلے ہيں شام کے اور واہموں کا بوجھ
گھر ميں کوئي ديا بھي جلاہوگا يا نہيں
ليا ہم نے بھي دم آکے کس کنارے پر
چراغ خيمے کا ہے اور ہوا سمندر کي
اس کا اثر تسليم کرو اب، اس کي سزا برداشت کرو
تم نے فاروق اپنا تخلص آپ ہي محشر رکھا ہے
|