|
|
| ايک ميں |
ايک ميں دل ريش ہوں ويسا ہي دوست
زخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلے
شمع کي مانند ہم اس بزم ميں
چشم تر آئے تھے دامن تر چلے
ڈھونڈتے ہيں آپ سے اس کو پرے
شيخ صاحب چھوڑ گھر باہر چلے
ہم نہ جانے پائے باہر آپ سے
وہ ہي آڑے آگيا جدھر چلے
ہم جہاں ميں آئے تھے تنہا دلے
ساتھ اپنے اب اسے لے کر چلے
جوں شر اے ہستي بے بود ياں
بارے ہم اپني باري بھر چلے
ساقيا ياں لگ رہا ہے چل چلاد
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
درد کچھ معلوم ہے يہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کيدھر چلے
|
|
 |