|
|
| ہے غلط |
ہے غلط گر گمان ميں کچھ ہے
تجھ سوا بھي جہان ميں کچھ ہے
دل بھي تيرے ہي ڈھنگ سيکھا ہے
آن ميں کچھ ہے، آن ميں کچھ ہے
لے خبر تيغ يار کہتے ہيں
باقي اس نيم جان ميں کچھ ہے
ان دنوں کچھ عجب ہے حال مرا
ديکھتا کچھ ہوں، دھيان ميں کچھ ہے
اور بھي چاھئيے سو کہيے اگر
دل نامہربان ميں کچھ ہے
درد تو جو کرے ہے جي کا زياں
فائدہ اس زيان ميں کچھ ہے؟
|
|
 |