|
|
| ہم وحشيوں |
ہم وحشيوں کے دل میں کچھ اور ہي
امنگ ہے
وحشت بھري ہے اور ہي اور ہي ترنگ ہے
ان گم شدوں کے آگے تو عنقا بھي دنگ ہے
اہل فنا کو نام سے ہستي کے ننگ ہے
لوح مزار بھي مري چھاتي پہ سنگ ہے
نے فکر صبح کي نہ غم شام تھا ہميں
نے شوق بادہ تھا، نہ سرجام تھا ہميں
جب تک عدم ميں تھے عجب آرام تھا ہميں
اس ہستي خراب سے کيا کام تھا ہميں
اے نشہ ظہور يہ تيري ترنگ ہے
نےياں ہوا اے آب ہے نے حرص نان کي
زاہد يہ باتيں سب ہيں ترے امتحان کي
فارغ ہو بيٹھ فکر سے دونوں جہان کي
خطرہ جو ہے سو آئندہ دل پہ زنگ ہے |
|
 |