|
|
| ہوا جو کچھ |
ہوا جو کچھ کہ ہونا تھا کہيں کيا جي کو رو
بيٹھے
بس اب ہم ايک ساتھ دونوں جہاں سے ہاتھ دھو بيٹھے
بساط اپني ميں ہم آئے تھے آپ سو اب تو نہيں ملتے
نہ تھا کچھ اور اپنے پاس جس کو کہئيے کھو بيٹھے
نہ پوچھو کچھ ہمارے ہجرکي اور وصل کي باتيں
چلے تھے ڈھونڈنے جس کو سو وہ ہي آپ ہو بيٹھے
وفا کي چھنٹ بھي تجھ پر پڑي ہر گز نہ اے ظالم
لگا تھا خون دامن سے سو وہ بھي آپ دھو بيٹھے
نہ اٹھو درد اپنے بستر سے ياں طمع کر کر
جو کچھ يوں غيب سے آوے سو تم البتہ لو بيٹھے
|
|
 |