|
|
| مرا جي ہے |
مرا جي ہے جب تک تري جستجو ہے
زباں جب تلک ہے، يہي گفتگو ہے
خدا جانے کيا ہوگا انجام اس کا
ميں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے
تمنا تري ہے اگر ہے تمنا
تري آرزو ہے، اگر آرزو ہے
کيا سير سب ہم نے گل زار دنيا
گل دوستي ميں عجب رنگ و بو ہے
غنيمت ہے يہ ديد و اديد ياراں
جہاں آنکھ مند گئي، نہ ميں ہوں نہ تو ہے
نظر ميرے دل کي پڑي درد، کس پر
جدھر ديکھتا ہوں، وہي روبہ رو ہے
|
|
 |