|
|
| نہ وہ نالوں کي |
نہ وہ نالوں کي سوزش ہے نہ آہوں کي ہے وہ
دھوني
ہوا کيا درد کو پيارے گلي کيوں آج ہے سوني
جلا کر ديکھ نامےکو حقيقت گر نہیں پڑھتا
محبت کے شراروں نے يہ چھاتي جس طرح بھوني
پڑي ہے خاک ميں يہ لاش اس رشک شہيداں کي
لہو کے آنسوؤں روتا ہے جس کو قتل کر خوني
|
|
 |