|
|
| تہمت چندا |
تہمت چندا اپنے ذمے دھر چلے
جس ليے آئے تھے سو ہم کو کر چلے
زندگي ہے يا کوئي طوفان ہے
ہم تواس جينے کے ہاتھوں مر چلے
کيا ہميں کام ان گلوں سے اے صبا
ايک دم آئے ادھر اودھر چلے
دوستو ديکھا تماشا ياں کا سب
تم رہو خوش ہم تو اپنے گھر چلے
آہ بس موت جي جلا تب جانئيے
جب کوئي افسوں ترا اس پر چلے
|
|
 |