|
فقيرانہ آئے صدا کر چلے
مياں خوش رہو ہم دعا کر چلے
جو تجھ بن نہ جينے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو اب وفا کر چلے
شفا اپني تقدير ہي ميں نہ تھي
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
وہ کيا چيز ہے آہ جس کے لئے
ہر اک چيز سے دل اٹھا کر چلے
کوئي نا ميدانہ کرنے نگاہ
سو تم ہم سے منہ بھي چھپا کر چلے
بہت آرزو تھي گلي کي تري
سو ياں سے لہو ميں نہا کر چلے
دکھائي دے يوں کہ بے خو کيا
ہميں آپ سے بھي جدا کر چلے
جبيں سجدہ کرتے ہي کرتے گئي
حق بندگي ہم ادا کر چلے
پرستش کي عادت کہ اے بت تجھے
نظر ميں سبھوں کي خدا کر چلے
|