|
غم رہا تک کہ دم رہا
دم کے جانے کا نہايت غم رہا
حسن تھا تيرا بہت عالم فريب
خط کے آنے پر بھي اک عالم رہا
دل نہ پہنچا گوشہ داماں تلک
قطرہ خون تھا مثرہ پر جسم رہا
جامہ احرام ازحد پر نہ جا
تھا زم ميں ليک نا محرم رہا
ميرے رو کي حقيقت جس ميں تھي
ايک مدت تک وہ کاغذ نم رہا
صبح پيري شام ہونے آئي مير
تو نہ چيتا ياں بہت دن کم رہا
|