حمد
دل رفتہ جمال ہے اس ذو الجلال کا
مستجمع جمعي صفات و کمال کا
اوراک کو ہے ذات مقدس ميں داخيل کيا
اودھر نہيں گزار گمان و خيال کا
حيرت سے عارفوں کو نہيں راہ معرفت
حال اور کچھ ہے ياں انہوں کے حال و قال کا
ہے قسمت زمين و فلک سے غرض نمود
جلوہ و گرنہ سب ميں ہے اسکے جمال کا
مرنے کا بھي خيلا رہے مير اگر تجھے
ہے اشتياق جان جہاں کے وصال کا
|