ابتدائے عشق ہے روتا ہے کيا آگے آگے ديکھئے ہوتا ہےکي
قافلے ميں صبح کے اک شور ہے يعني غافل ہم چلے سوتا ہے کي
سبز ہوتي ہي نہيں يہ سر زميں تخم خواہش دل تو بوتا ہے کي
يہ نشان عشق ميں جاتے نہيں داغ چھاتي کے عبث دھوتا ہے کي