|
کئي دن سلوک دواع کا، مرے درپے دل راز
تھا
کبھو درد تھا، کبھو، داغ تھا، کبھو زخم تھا، کبھو دار تھا
دم صبح بزم خوش جہاں، شب غم سے کم نہ
تھے مہرباں
کہ چراغ تھا سو تو دور تھا، جو پتنگ تھا سو غبار تھا
دل خستہ جو لہو ہوگيا، تو بھلا ہوا کہ
کہ کہاں تک
کبھو، سوزينہ سے داغ تھا، کبھو درد غم سے فگار تھا
دل مضطرب سے گزر گئے، شب و وصل اپني
ہي فکر ميں
نہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکيب تھا نہ قرار تھا
جو نگاہ کي بھي پلک اٹھا تو ہمارے دل
سے لہو بہا
کہ وہيں وہ نازک بے خطا کسو کے کيلجے کے پار تھا
يہ تمہاري ان دنوں دوستاں، جس کے غم
ميں ہے خوں چکاں
وہي آفت دل عاشقاں، کسو، وقت ہم سے بھي ياد تھا
نہيں تاں دل کي شکستگي، يہي درد تھا
يہي خستگي
اسے جب سے ذوق شکار تھا، اسے زخم سے سروکار تھا
کبھو جائے گي جو ادھر صبا تو يہ کہيو
اس سے کہ بے وفا
مگر ايک مير شکستہ پا، ترے باغ تازہ ميں خار تھا
|