منقبت
جو متعقد نہيں ہے علي کے کمال کا
ہر بال اس کے تن پہ ہے موجب وبال کا
عزتعلي کي قدر علي کي بہت ہے دور
مورو ہے ذولجلال کے عز و جلال کا
پايا علي کو جاکے محمد نے اس جگہ
جس جا نہ تھا لگائو گمان و خیال کا
رکھنا قدم پہ اس کے قدم کب ملک سے ہو
مخلوق آدمي نہ ہوا ايسي چال کا
شخصيت ايسي کس کي تھي ختم رسل کے بعد
تھا مشورت شريک، حق لايزال کا
توڑا بتوں کو دوش نبي پر قدم کو رکھ
چھوڑا نہ نام کعبہ ميں کفر و ضلال کا
راہ خدا ميں ان نے ديا اپنے بھي تئيں
يہ جو منہ تو ديکھو کسوآ شمال کا
نسبت مجھے ہے حشر ميں اس کي ہي چال کا
فکر نجات مير کو کيا مدح خواں ہے وہ
اولاد کا علي کي محد کي آل کا۔۔۔۔۔
|