|
مہر کي تجھ سے توقع تھي ستمگر نکلا
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
جتنے جي آہ ترے کوچے سے کوئي نہ پھرا
جو ستم ديدہ رہا جا کے سومر کر نکلا
دل کي آبادي کي اس حد ہے خرابي کہ نہ
پوچھ
جانا جاتا ہے کہ اس راہ سے لشکر نکلا
اشک تر قطرہ خون، لخت جگر ہجراں نے
اس دفينے ميں سے اقسام جواہر نکلا
ہم نے جانا تھا لکھے گا کوئي حرف اے
مير
پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا
|