نعت
ہے حرف خاصہ دل زرہ حسن قبول کا
يعني خيال سر ميں نعت رسول کا
رہ پيروي ميں اس کي کہ گام نحست ميں
ظاہر اثر ہے مقصد دل کے وصول کا
وہ مقتدائے خلق جہاں اب نہيں ہوا
پہلے ہي تھا امام نفس و عقول کا
سرمہ کيا ہے وضع پے چشم اہل قدس
احمد کي رہ گزار کي خاک اور دھول کا
ہے متحد نبي و علي و وصي کي ذات
ياں حرف معتبر نہيں ہر بو الفضول کا
دھو منہ ہزار پاني سے سو بار پڑھ درود
تب نام لے تو اس چمنستاں کے پھول کا
حاصل ہے مير دوستي اہل بيت اگر
تو غم ہے کيا نجات کے اپني حصول کا
|