|
وہ جو پي کر شراب نلکے گا
کس طرح آفتاب نلکے گا
محتسب ميکدہ سےجاتا نہيں
يہاں سے ہو کر خراب نکلے گا
يہي چپ ہے تو درد دل کہتے
مونہہ سے کيونکر جواب نکلے گا
جب اٹھے گا جہان سے يہ نقاب
تب ہئ اس کا حجاب نکلے گا
عرق اسکے بھي مونہہ کا بوکيجو
گر کبھو يہ گلاب نکلے گا۔۔۔
آئو باليں تک نہ ہو کے دير
جي ہمارا شتاب نکلے گا
دفتر داغ ہے جگر اس ميں
کسو دن يہ حسب نکلے گا
تذکرے سب کے پھر رہيں گے دھرے
جب ميرا انتخاب نکلے گا
مير ديکھو گے رنگ نرگس کا
اب جو وہ مست خواب نکلےگا
|