|
مومن خان مومن رنگين
طبعيت کے مالک تھے، گو آخري عمر ميں سيد احمد بريلوي کے ہاتھوں
بيعت کرکے توبہ تائب ہوگئے، ليکن اس سے پہلے مومن نے بڑي بھر پور
زندگي گزاري، شاعري، نجوم، موسيقي، طب، شطرنج، غرض يہ کہ کونسا اس
دور کا فن تھا جس ميں يہ بکتا نہ تھے، شاعري ميں بھي صاحب طرز
زمانے گئے، اگر چہ متعد مثنوياں بھي لکھيں ليکن کا اصل روپ غزل ميں
سامنے آتا ہے، اپنے عہد کے شاعروں سے وہ اس لحاظ سے ممتاز نظر آتے
ہيں کہ انہوں نے زيادہ تر اپنے ذاتي مشاہدات کو موضوع سخن بنايا،
ان کي مشنويوں کو تو بعض لوگوں نے يہ کہہ کر ہي پرے رکھ ديا کہ يہ
شاعري کم اور ذاتي عشق بازي کے قصے زيادہ ہيں، حقيقت يہ ہے کہ مومن
طبعا خوش اور عاشق مزاج تھے چنانچہ کلام پر ان کي زندگي کا ہونا
اثر لازمي تھا۔ |