گھر گيا ہو جو فصيلوں کو اٹھا کر خود ہي
کيسے اب اپنے حصاروں سے وہ باہر نکلےہر اک لمحہ يہاں شيشہ گري ہے
نظر درکار ہے کار جہاں ميں
ہم اپنے گھر ميں بھي ہيں اب مسافروں کي طرح
ہر ايک چيز يہاں اجنبي سے لگتي ہے
پلکوں پہ ان کي اشک ہيں لب پرگلا بھي ہے
اس دل کشي حسن کي کچھ انتہا بھي ہے
ہم آج خود ہي دور کريں دل کي تيرگي
آساں نہيں يہ کام تو دشوار بھي نہيں
|